10 اپریل 2012 - 19:30

ان تمام جرائم کی جڑیں وہابیت میں پیوست ہیں؛ وہابیت عالم اسلام کے لئے ایک مصیبت میں تبدیل ہوچکی ہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث نبی ہوئی ہے؛ علمائے اسلام کو یہ مسئلہ حل کرنے کےلئے آگے آنا چاہئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے جرائم پیشہ وہابیوں کی جانب سے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام جرائم کی جڑیں وہابیت میں پیوست ہیں، وہابیت دنیا بھر میں اسلام کی بدنامی کا موجب بنی ہوئی ہے اور عالم اسلام کے علماء کو وہابیت سے چھٹکارا پانے کے لئے چارہ جوئی کرنی چاہئے۔ انھوں نے فقہ کے درس خارج کے آغاز پر حالیہ ایام میں پاکستان میں رونما ہونے والے تلخ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پاکستان سے ایسی خبریں مل رہی ہیں کہ قابل نفرت ٹولے سپاہ صحابہ کے ایک گروہ نے شیعیان اہل بیت (ع) کی ایک بس کو روکا اور مسافروں پر اندھادھند فائرنگ کردی اور متعدد مردوں، خواتین اور بچوں کا قتل عام کردیا۔مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: یہ واقعات اس سے پہلے بھی رونما ہوتے رہے ہیں اور پھر بھی دہرائے جارہے ہیں اور ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ کس دین اور مذہب کے قائل ہیں کہ اس طرح بے گناہوں کو قتل کررہے ہیں؟حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے وہابیت کو اس قسم کے جرائم اور درندگیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا: ان تمام مسائل کی جڑ وہابیت میں پیوست ہے وہی وہابیت جو عالم اسلام کے لئے ایک بلا اور مصیبت میں بدل گئی ہے اور اس نے عالم اسلام کا چہرہ بگاڑ دیا ہے۔ چنانچہ دنیا کے مسلم علماء کا فرض بنتا ہے کہ وہ امت کو مہابیت سے چھٹکارا دینے کے لئے چارہ جوئی کریں۔ انھوں نے کہا: ہمارے احتجاج و اعتراض کا رخ حکومت پاکستان کی جانب ہے کہ وہ کیوں اپنے شہریوں کی سلامتی کی ضمانت کیوں نہيں دے سکتی؟ اور دہشت گرد حکومت کی عملداری کے اندر لوگوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان واقعات میں اگر ایک طرف سے حکومت پاکستان قصور وار ہے تو دوسری طرف سے بین الاقوامی فورمز بھی بے گناہ نہیں ہیں اور ہمارا ان سے سوال یہی ہے کہ وہ پاکستان میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر خاموش کیوں ہیں؛ وہ اعتراض و احتجاج کیوں نہيں کرتے ہور دباؤ کیوں نے ڈالتے،انھوں نے کہا:  اگر ان کا اپنا ایک آدمی مارا جائے تو پوری دنیا میں ان کی آوازیں پوری دنیا میں سنائے دینے لگتی ہیں اور تمام ذرائع ابلاغ کو اس ایک قتل کے اوپر مرکوز کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں بسوں کو روکا جاتا ہے اور شیعیان آل محمد (ص) کو اتارا جاتا ہے اور ان پر گولیاں برسائی جاتی ہیں لیکن کسی ایجنسی اور کسی بین الاقوامی تنظیم یا فورم کے کان پر حتی جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ کیسا بین الاقوامی پروگرام ہے؟انھوں نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف دہشت گرد وہابیوں کے غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا، پاکستان کے شیعہ اور مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومت پاکستان نیز بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ان جرائم کا سد باب کریں جن کی پوری دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس گروہ کی پوری دنیا سے بیخ کنی کریں جو اس طرح کے عجیب اور نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110